.

.
تازہ ترین
کام جاری ہے...

انگریزی صحافت کا وہ دور

سوموار, دسمبر 30, 2013
خبرونظر-
پرواز رحمانی،
انگریزی صحافت کا وہ دور:
ایک وقت تھا جب سیاسی حالات و واقعات کے سلسلے میں ملک کا انگلش پریس بہت معتبر سمجھاجاتاتھا۔ اسے نیشنل پریس کی حیثیت حاصل تھی۔ ٹی وی چینلوں کے طوفانِ بدتمیزی کے آنے سے پہلے پریس یعنی پرنٹ میڈیا کسی حد تک سنجیدہ ہواکرتاتھا۔ اس وقت انگریزی اخباروں کے ایڈیٹروں اور مبصروں کی رائے کو بہت اہمیت دی جاتی تھی۔ اُن کی تنقیدمیں بھی دلیل اور متانت ہوا کرتی تھی۔ لیکن اب سردجنگ کے خاتمے کے بعد گلوبلائزیشن اور مارکیٹ اکنامی کا دور کیا آیاکہ بڑے بڑے انگریزی ایڈیٹر اور تجزیہ نگار بھی اپنی دیانت و شرافت کا بھرم کھوبیٹھے۔ اب مقامی زبانوں کے مبصرین کی طرح گھٹیا تجزیہ نگاری، پروپیگنڈا، جھوٹ فریب اور بددیانتی ان کاوتیرہ بن گئی ہے۔ ملکی حالات ہوں یا عالمی واقعات، تجزیہ کرتے وقت یہ مبصرین یہ دیکھتے ہیں کہ بڑی عالمی قوتوں کا رُخ کیا ہے، رجحان کیا ہے، ان کے نزدیک کیا صحیح ہے اور کیا غلط۔ فی زمانہ انھوںنے کِس کو ’’دشمن‘‘ قرار دے رکھا ہے۔ ان مبصروں کی بے کرداری کا سب سے بڑا اور واضح ثبوت مصر اور بنگلہ دیش کی صورت حال ہے جس نے ان کی زردصحافت کو بے نقاب اور عریاں کرکے رکھ دیا ہے۔ انگریزی پرنٹ میڈیا کے سی راجہ موہن بھی ایسے ہی ایک مبصر ہیں جن کے تبصرے پہلے کبھی معقول ہوا کرتے تھے۔
آج کا ایک نمونہ
یہ سی راجہ موہن ’’آبزرور ریسرچ فائونڈیشن‘‘ دہلی کے فیلو اور ’’جرنلزم آف کریج‘‘ والے انگریزی روزنامےانڈین ایکسپریس کے معاون کار ایڈیٹر ہیں۔ ۱۹؍دسمبر کی اشاعت میں انھوںنے بنگلہ دیش کی سیاسی صورت حال پر تبصرہ کیاہے۔ خلاصہ اِس طرح ہے ’’بنگلہ دیش کا بحران دراصل جدید روشن خیالی اور مذہبی انتہاپسندی کی جنگ ہے....... عبدالقادر ملاکو پھانسی ایک وار کرائمس ٹریبیونل نے قانونی طورپر سنائی تھی جس کاخیرمقدم بہت سوں نے کیا ہے لیکن ریڈیکل گروپوں نے تخریب کاری مچارکھی ہے.......بی این پی کی خالدہ ضیاء، درحقیقت جماعت اسلامی کی تابع فرمان ہیں، اُسی کے کہنے پر چلتی ہیں....... اور یہ جماعت اسلامی وہ ہے جس نے آزادی کی جنگ میں پاکستانی فوج کے ساتھ مل کر ہزاروں بنگلہ قوم پرستوں کو مروایاتھا....... ریڈیکل اسلامی گروپ بنگلہ دیش میں سیاسی اسلام نافذ کرناچاہتے ہیں اور پاکستان کی آئی ایس آئی اُن کی پشت پر ہے....... اگر بنگلہ دیش میں یہ قوتیں برسراقتدار آگئیں تو پورا برصغیر اسلامی انتہاپسندی کی تاریکی میں چلاجائے گا۔ لہٰذا حکومتِ ہند کو اپنی خاموشی توڑکر شیخ حسینہ کی سرگرم حمایت کرنی چاہیے تاکہ بی این پی، جماعت اتحاد برسراقتدار نہ آسکے.......۔‘‘
کرنے کاایک کام
کیا کوئی کہہ سکتاہے کہ یہ کسی بڑے مبصر کا بے لاگ اور دیانتدارانہ تبصرہ ہے اور حقائق کے علم کے بعد لکھاگیاہے اور یہ کہ مبصر کو جمہوری اقدار اور قانون و انصاف کا ذرا بھی پاس  ولحاظ ہے؟ لیکن فی الحال اس حقیقت سے قطع نظر کہ حق گوئی و دیانتداری کی توقع وہیں سے کی جاسکتی ہے جہاں ایمان ہو؛ یہ یکسر علیٰحدہ موضوع ہے۔ یہاں اِس حقیقت پر بھی گفتگو نہیں کہ مصر، تیونس، الجزائر، شام، سوڈان ،افغانستان اور ترکی کی طرح بنگلہ دیش میں بھی اسلامی نظریۂ حیات زیربحث ہے جس کے خلاف آج کی ’’سوپرپاور‘‘ نے ’’وار آن ٹیررزم‘‘ کے نام سے عالم گیر جنگ چھیڑرکھی ہے اور ملکی و بین الاقوامی میڈیا کا ہر بڑا فیگر اُسی رخ پر سوچتا اور چلتا ہے؛ یہاں سردست یہ دیکھنا ہے کہ ہمارے ملک کی مسلم قیادت کیا کوئی ایسا پروجیکٹ نہیں بناسکتی جس کے تحت انگریزی زبان کے کچھ بااثر مبصر اور ٹی وی مباحثوں میں کامیابی کے ساتھ حصے لینے والے تیار کیے جاسکیں۔ اگر یہ کام مشکل ہوتو کیا میڈیا میں موجود بعض صاف ذہن اور بے لاگ مبصرین کی نشان دہی کرکے، خواہ وہ کسی بھی عقیدے و خیال کے ہوں، ان کی خدمات حاصل نہیں کی جاسکتیں؟ اور اگر یہ بھی مشکل معلوم ہوتو کیا مسلم اہل علم میں سے کچھ افراد ایسے نہیں اُٹھ سکتے جو بڑے صحافیوں اور مبصروں سے ملاقاتیں کرکے اسلام کے اصولِ حیات اور متذکرہ بالا مسلم ملکوں کے حقائق سے انہیں باخبر کرسکیں؟

بہ شکریہ سہ روزہ دعوت 25دسمبر2013
کالم نگار سہ روزہ دعوت ، دہلی کے  چیف اڈیٹر ہیں

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔