.

.
تازہ ترین
کام جاری ہے...

مثبت راہیں تلاش کرنا سیاسی بصیرت کا تقاضا ہے : شیش نارائن سنگھ

سوموار, جون 02, 2014

نئی دہلی :( اشرف علی بستوی ) 
ہندوستان کے بدلے ہوئے سیاسی حالات کا تقاضا یہ ہے کہ ہم سرکار کو یہ بتائیں کہ ہندوستانی مسلمان ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار نبھانا چا ہتا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ مسلمان تعلیم اور تنظیم کو منظم کرنے کی بھر پور کوشش کریں ، ٹکراو سے گریز کرتے ہوئے مرکزی سرکار کی کار کردگی کا تجزیہ ضروری ہے ۔ مسلمان عام ہندوستانی شہریوں کے مسائل کے حل لیے اٹھ کھڑے ہوں ، ہمیں قناعت کو اپنا مقدر بنانے کے بجائے مشقت کو اپنا مقدر بنانا چا ہیے۔ ہمیں حالات کے سامنے خود سپردگی اورقطع تعلق کی روش اپنانے کے بجائے ملک کے ذمہ دار شہری کی حیثیت سے آگے آنا چاہیے اور حکمراں طبقے کو یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ ملک کا مسلمان اپنے آئینی حقوق کے حصول کے تئیں سر گرم ہے
ان خیالات کا اظہار ملک کی سرکردہ علمی و سماجی شخصیات نے یونائٹیڈ مسلم آف انڈیا اور اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کے زیر اہتمام معروف صحافی محفوظ الرحمن کی یاد میں غالب اکیڈمی میںآٹھویں میموریل لیکچر میں کیا۔ جس کا عنوان موجودہ حالات میں اقلیتوں کے لیے لائحہ عمل رکھا گیا تھا ۔
معروف صحافی شیش نارائن سنگھ نے اپنے موضوع پر خصوصی لیکچر میں کہا کہ بدلے ہوئے حالات میں ہندوستانی مسلمانوں کو مایوس ہو نے کی قطعی ضرورت نہیں ہے البتہ اپنے آئینی حقوق کے تحفط کے لیے چوکنا رہنا ہوگا ۔ نئی سرکار کے لیے بھی یہ ممکن نہیں کہ ملک کی پندرہ فیصد آبادی کو حاشیے پر ڈال کر ملک کی ترقی کا خواب پورا کرلے گی ۔ اندیشوں کے درمیان مثبت راہیں تلاش کرنا ہماری سیاسی بصیرت کا تقاضا ہے لہذا ہمیں اپنی ذمہ داری نبھانی چاہیے ۔
بعد ازیں خصو سی لیکچر پر اظہار خیال فرماتے ہوئے اگنو کے پرو وائس چانسلر پروفیسر بشیر احمد خان نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آنے والے دنوں میں بی جے پی یو پی ، بہار ، ہریانہ ، مہا راشٹر میں ایسے حلات پیدا کر نے کی کوشش کرے گی تاکہ وہاں صدر راج کے نفاذ ہو سکے ۔ہمیں حالات سے گھبرانے ی ضرورت نہیں ہے بلکہ اس کا جواب تعلیم اور تنظیم کے امتزاج سے دینے کی ضرورت ہے ۔سینئر صحافی سید منصور آغا نے کہا کہ صرف اپنے مسائل کی جنگ لڑٹے ایک عرصہ بیت گیا ہے اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں ہمیں چاہیے کہ ہم عام شہریوں کے مسائل کے حل کے لیے اٹھ کھڑے ہوں ۔وقت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم صرف اپنے انصاف مانگنے کے بجائے دوسروں کو انصاف دلانے والے بنیں ۔
ہمالیہ ڈرگ کے چیر مین ڈاکٹر سید فاروق نے کہا کہ حالات کی مثبت تبدیلی ممکن ہے اگر مسلمان قناعت کو مقدر بنانے کے بجائے مشقت کو اپنا مقدر بنا لیں ۔

سینئر صحافی معصوم مرادآبادی نے افتتاحی خطاب میں موضوع کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ یہ وقت پا مردی سے حالات کا مقابلہ کرنے کا ہے ہمیں حالات کے سامنے خود سپردگی اور کنارہ کشی کی روش اپنانے کے بجائے حالات سے نمٹنے کے لیے آئین کی بالا دستی اور اس کے تحفظ کے لیے آگے آنا ہوگا ۔اس موقع پر پروگرام کے روح رواں ڈاکٹر سید احمد خان نے اردو زبان و ادب کی دو اہم شخصیات دہلی اردو اکیڈمی کے وائس چیر مین پروفیسر خالد محموداور دہلی یو نیورسٹی کے صدر شعبہ اردو پروفیسر ابن کنول کا استقبال کیا ۔
اپنے صدارتی خطاب میں نیشنل کمیشن برائے اقلیتی تعلیمی ادارہ جات کے چیر مین جسٹس سہیل اعجاز صدیقی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ مسلمانوں کو پرشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ آج بھی ان کی لڑائی لڑنے والے برادر وطن کی بڑی تعداد ہے ۔ ہمیں معیاری تعلیم کی جانب خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔مسلمان خیالی خوف میں مبتلا ہونے کے بجائے مسقبل کی منصوبہ بندی کریں ۔
پروگرام کی نظامت سینئر صحافی سہیل انجم نے کی ۔ پروگرام میں مولانا عقیدت اللہ قاسمی ،ڈاکٹر عقیل احمد،ڈاکٹر توحید احمد قاسمی ،جلال الدین اسلم ، خروشید عالم ،جاوید اخترسمیت کثیر تعداد میں سماجی و صحافتی شعبے سے وابستہ افراد نے شرکت کی ۔

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔