.

.
تازہ ترین
کام جاری ہے...

مغربی بنگال کے اسکولوں میں آر ایس ایس کے کیمپوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ

سوموار, اگست 11, 2014

کولکاتہ : مغربی بنگال کے اسکولوں اور کالجوں کے کیمپس میں آر ایس ایس کے کیمپوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ پر ترنمول کانگریس سمیت سیکولر سیاسی جماعتوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ترنمول کانگریس نے اپنے طلباء ونگ ترنمول چھاتر پریشد کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ ریاست بھر میں ہندو نیشنلسٹ آرگنائزیشن راشٹریہ سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور اس کے سد باب کیلئے اپنے طور پر کوشش شروع کردیں۔
ترنمول کانگریس نے الزام عائد کیا ہے کہ آر ایس ایس اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں جسمانی صحت کی تعلیم کے نام پر کیمپ لگاکر فرقہ واریت پھیلانے کی کوشش کررہی ہے۔ دوسری جانب آر ایس ایس نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ ترنمول کانگریس چھاترپریشد کے صدر شنکودیپ پانڈے نے کہا کہ ہمیں ترنمول چھاتر پریشد کے ضلع یونٹ سے رپورٹ ملی ہے کہ آرایس ایس اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں جسمانی ورزش کے نام پر کیمپ لگارہی ہے۔ مگر آر ایس ایس اس کی آڑ میں طلباء میں ہندو انتہا پسندی کے رجحانات میں اضافے کی کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے آر ایس ایس کی ان سرگرمیوں کے سد باب کیلئے اپنے ممبروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ کلاس شروع ہونے سے 2گھنٹے قبل پہنچ جائیں اور کلاس ختم ہونے کے بعد پانچ گھنٹے تک کلاس میں رکے رہیں۔ اس کے علاوہ ہم نے اپنے ممبروں سے کہا ہے کہ وہ طلباء کے گھر گھر جاکر آر ایس ایس کی حقیقت سے آگاہ کرائیں۔
پانڈے نے کہا کہ بنگال میں فرقہ واریت کی اجازت نہیں ہے ۔ترنمول کانگریس چھاترپریشد کے جنرل سیکریٹری تمانگو گھوش نے کہا کہ آر ایس ایس ریاست بھر کے کالجوں میں فرقہ واریت کو بڑھانے کی کوشش کررہی ہے بالخصوص بردوان اور پرولیا میں یہ کوشش شدو مد سے کی جارہی ہے۔
خیال رہے کہ گزشتہ پانچ سالوں سے مغربی بنگال میں آر ایس ایس کی سرگرمیوں میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے ۔جون میں آر ایس ایس نے جنوبی 24پرگنہ کے برئی پور میں پہلی مرتبہ عوامی میٹنگ کا انعقاد کیا تھا جس میں تقریباً 4000افراد شریک ہوئے تھے۔تمانگو گھوش نے کہا کہ مگر آر ایس ایس کو کبھی بھی بنگال میں کامیابی نہیں ملے گی۔ وہ بنگال میں فرقہ ورانہ ہم آہنگی کو نقصان نہیں پہنچا سکتے ۔تمانگو نے کہا کہ آر ایس ایس کی کوشش ہے کہ طلباء میں انتہا پسندی کے نظریات کو فروغ دے کر بنگال میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچایا جائے۔
ترنمول کانگریس چھاتر پریشد کی یونین کے تحت بنگال میں 400 کے قریب کالج ہیں ۔گھوش نے کہا کہ ہم نے ہر کالج کے یونٹ سے کہا ہے کہ وہ اپنے کالجوں میں کیمپ لگائیں اور فرقہ ورانہ ہم آہنگی کو فروغ دیں ۔دوسری جانب بنگال میں آر ایس ایس کے ترجمان جسنو باسو نے ترنمول کانگریس کے الزام کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ آر ایس ایس کالجوں اور یونیورسٹی کے باہر طلباء کی بہتر صحت کیلئے کیمپ لگاتاہے جس میں انہیں صحت سے متعلق معلومات فراہم کی جاتی ہیں اور اس کی ٹریننگ بھی دی جاتی ہے ۔باسو نے کہا کہ جنوری سے اب تک روزانہ 30سے 40نئے ممبر بن رہے ہیں ۔باسو نے دعویٰ کیا کہ آر ایس ایس کا کوئی سیاسی ایجنڈہ نہیں ہے۔




0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔