.

.
تازہ ترین
کام جاری ہے...

وزیر اعظم رجب طیب اردگان ترکی کے صدر منتخب

سوموار, اگست 11, 2014

استنبول : ترکی میں اتوار کے روز ہونے والے صدارتی انتخابات موجودہ وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن نے جیت لیے ہيں۔ یہ پہلے صدارتی انتخابات تھے، جن میں سربراہ مملکت کا انتخاب پارلیمان کی بجائے ملکی رائے دہندگان نے براہ راست کیا۔

دس اگست کو ہوئے اليکشن کے ابتدائی نتائج کے مطابق ایردوآن کو 52 فیصد ووٹروں کی تائید حاصل ہوئی جبکہ ان کے حریف امیدواروں میں سے اکمل الدین احسان اوگلو کو 38.4 فیصد اور صلاح الدین دیمیرتاس کو 9.8 فیصد ووٹ ملے۔ يہ اعداد و شمار 99 فيصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد ملک کی سرکاری نيوز ايجنسی نے اپنی رپورٹوں ميں جاری کيے۔ بعد ازاں ترک سپريم اليکشن کونسل کے سربراہ سعدی گووين نے ان انتخابات ميں ايردوآن کی فتح کا اعلان کرتے ہوئے بتايا کہ حتمی سرکاری نتائج کا اعلان آج پیر کے روز کيا جائے گا۔
تین مرتبہ وزیر اعظم منتخب ہونے والے 60 سالہ ایردوآن نے فتح کے بعد اپنے ہزار ہا حامیوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ترکی میں ایک اور نئے عہد کا آغاز ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ترک ریاست اور عوام کے لیے ایک نئے مستقبل کی تعمیر کے خواہش مند ہیں۔ انقرہ ميں اپنی سياسی جماعت جسٹس اينڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے ہيڈکوارٹرز سے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے ان کا مزيد کہنا تھا، ’’ميں صرف ان کا صدر نہيں، جنہوں نے ميرے حق ميں ووٹ ڈالا ہے بلکہ ميں تمام 77 ملين شہریوں کا صدر ہوں۔‘‘
برطانوی دارالحکومت لندن ميں قائم ايک تھنک ٹينک چیٹم ہاؤس سے منسلک ماہر Fadi Hakura کے مطابق يہ انتخابی نتيجہ غير متوقع نہيں ہے کیونکہ اليکشن سے قبل ہی رائے عامہ کے جائزوں ميں يہ بات سامنے آ گئی تھی کہ ايردوآن 54 تا 58 فيصد ووٹ حاصل کر کے يہ انتخابات جيت سکتے تھے۔ انہوں نے کہا، ’’رجب طيب ايردوآن اس انتخابی نتيجے کو صدر کے عہدے کو زيادہ با اختيار بنانے کے اپنے منصوبوں کے حوالے سے فيصلہ کن مينڈيٹ کے طور پر ديکھيں گے۔‘‘دوسری جانب نيشنلسٹ ايکشن پارٹی کے رہنما دولت باچیلی نے ايردوآن پر الزام عائد کيا ہے کہ انہوں نے صدر کے عہدے تک پہنچنے کے ليے دھوکہ دہی اور چالاکی سے کام ليا۔ باچیلی کے بقول ايردوآن بطور صدر ديکھے جانے کے حوالے سے ’مشکوک اور متنازعہ‘ ہيں۔ نيشنلسٹ ايکشن پارٹی کی طرف سے ان انتخابات ميں موجودہ وزير اعظم کے مرکزی حريف امیدوار اکمل الدین احسان اوگلو کی حمايت کی گئی تھی۔
ایردوآن کہہ چکے ہيں کہ وہ صدارتی عہدے کو زيادہ با اختيار بنانے کا ارادہ رکھتے ہيں اور اس سلسلے ميں ملک ميں سن 2015ء ميں ہونے والے اگلے عام الیکشن کے بعد ملکی آئين ميں تراميم کی کوشش کی جائے گی۔ ان کے اس ارادے کو ان کے ناقدين طاقت کی ہوس سے تعبير کرتے ہيں۔

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔