.

.
تازہ ترین
کام جاری ہے...

کولیسٹرول کم کرنے والی 6 غذائیں

سوموار, ستمبر 08, 2014
دہلی: کولیسٹرول ایک چربیلا، نرم اور ملائم مادہ ہے۔ اس کی مخصوص مقدار انسان کی اچھی صحت کے لیے لازمی سمجھی جاتی ہے جبکہ اس کی غیر ضروری اضافی مقدار خون کی نالیوں (شریانوں) کی دیواروں کے ساتھ جم کر انہیں تنگ اور سخت کرنے کا سبب بن جاتی ہے۔ پھر یہی چیز نظامِ دورانِ خون کو خراب کر کے گردہ، بلڈ پریشر اور قلبی امراض کا باعث بنتی ہے۔ 
یہاں ہم آپ کو ایسی 6 غذاؤں کے بارے میں بتائیں گے جن کے استعمال سے غیر ضروری کولیسٹرول کو کم کیا جا سکتا ہے اور آپ کو کسی بھی دوائی کے استعمال کی ضرورت محسوس نہیں ہو گی۔ 1- مالٹا ایک سٹرس پھل ہے، جو پیکٹین نامی نشاستہ دار غذائیت سے بھرپور ہوتا ہے۔ پیکٹین کولیسٹرول کو خون کی نالیوں کے ساتھ چمٹنے سے باز رکھتا ہے۔ ایک مالٹے میں دو سے تین گرام حل ہونے والے ریشے، وٹامن سی اور پوٹاشیم کی کثیر مقدار ہوتی ہے، جو جسم میں کولیسٹرول کی سطح کو بڑھنے سے روکے رکھتی ہے۔ 2- جوء کے دیگر فوائد کے ساتھ ایک حیران کن فائدہ کولیسٹرول کی سطح کو کم کرنا بھی ہے، 
لہذا غیر ضروری کولیسٹرول جیسی پریشانی میں مبتلا افراد جوء کا آٹا ضرور استعمال کریں۔ 3- لوبیا اور مسور کی دال: لوبیا اور مسور کی دال میں شامل پروٹین کولیسٹرول کا بہترین قدرتی علاج ہے۔ لہذا کولیسٹرول سے نجات کے لئے ادویات کے بجائے لوبیا اور مسور کی دال کو اپنی روز مرہ کی خوراک کا حصہ بنائیں۔ 3- مچھلی: اومیگا تھری نامی ایسڈ سے بھرپور مچھلی جسم میں نہ صرف نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح کو کم کرتی ہے بلکہ یہ خون کو جمنے سے بھی محفوظ رکھتی ہے۔ 5- پستہ: 2008ء میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ روزانہ ڈیڑھ سے 3 اونس پستہ کھاتے ہیں، وہ کبھی غیر ضروری کولیسٹرول کا شکار نہیں بنتے۔ پستہ خون کی شریانوں کو نقصان دہ کولیسٹرول سے محفوظ رکھنے کا قدرتی اور موثر علاج ہے۔ 6- سرسوں اور زیتون کا تیل: بلاشبہ جسمانی وزن کم کرنے سے نقصان دہ کولیسٹرول میں کمی اور صحت مند کولیسٹرول میں اضافہ ہوتا ہے، لہذا اس مقصد کے لئے کم کیلوریز والی اشیائے خوردونوش کا استعمال کریں۔ ناشتہ میں مکھن وغیرہ کی نسبت زیتون اور سرسوں کے تیل کا استعمال کریں کیوں کہ یہ نہ صرف نقصان دہ کولیسٹرول کو کم کرے گا بلکہ ضروری کولیسٹرول کی سطح میں اضافہ کا باعث بھی بنے گا۔

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔