.

.
تازہ ترین
کام جاری ہے...

غزہ جنگ جنگ بندی کے ڈراموں کے درمیان معصوموں کا قتل عام

سوموار, اگست 04, 2014

غزہ: صیہونی دہشت گردوں کے تازہ حملوں میں 150سے زائد فلسطینی شہید،ہلاک ہونے والوں کی تعداد 1600 سے زائد،اسرائیلی فوجی کے اغوا کا بنایا بہانہ،حماس نےالزام کو مسترد کردیا
غزہ، 2 اگست (یو این آئی) حماس کے ذریعہ ایک اسرائیلی فوجی کو یرغمال بنانے کا بہانہ بنا کر جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کے غزہ کے علاقے رفاہ پرتازہ ترین شدید بری اور فضائی حملوں میں تقریباً 150 افراد ہلاک اور 400 زخمی ہوگئے ، اس کے ساتھ ہی 8 جولائی سے جاری اسرائیلی بمباری میں ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 1600 سے زائد ہوگئی ہے جب کہ سات ہزار سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔حماس نے اسرائیلی فوجی سیکنڈ لفٹننٹ ہادر گولڈن کے اغوا کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ہوسکتا ہے وہ حماس کی کارروائیوں کے دوران مارا گیا ہو۔واضح رہے کہ امریکہ اور اقوام متحدہ کی ثالثی میں جمعہ کو ابتدائی طور پر تین دن (72 گھنٹے) کے لیے جنگ بندی ہوئی تھی لیکن اس کے آغاز کے 90 منٹ کے بعد ہی اسرائیلی فوج نے غزہ پٹی کے مختلف علاقوں میں بری اور فضائی حملے شروع کردیے تھے اور جنوبی قصبے رفاہ میں اس کے حملے کے نتیجے میں ا ب تک تقریباًً 150فلسطینی ہلاک ہوگئے ہیں۔ ان حملوں میں 400سیزائد زخمی بھی ہوئے ہیں۔اسی علاقے میں فلسطینی مزاحمت کاروں نے ایک جھڑپ کے دوران دواسرائیلی فوجیوں کو ہلاک کردیا ہے تاہم حماس نے کسی فوجی کو زندہ پکڑنے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے ۔حماس نے اسرائیل پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عاید کیا ہے۔اس دوران واشنگٹن میں امریکی صدر بارک اوبامہ نے حماس پر زوردیا ہے کہ وہ غزہ میں جنگ بندی کے لیے سنجیدہ ہونے کا ثبوت دے۔انھوں نے حماس سے جمعہ کو لڑائی کے دوران مبینہ گرفتار کیے گئے ایک اسرائیلی فوجی کو غیر مشروط طور پر رہا کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔امریکی صدر نے نیوز کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ اگر وہ (حماس) اس صورت حال کو حل کرنے میں سنجیدہ ہیں تو پھر وہ اسرائیلی فوجی کو غیرمشروط پر جتنا جلد ممکن ہو،رہا کردیں۔مسٹر بارک اوبامہ کو جمعہ کے روز اسرائیل کی بمباری میں ہلاک ہونے والے تقریباًایک سو فلسطینیوں سے متعلق تو کوئی تشویش لاحق نہیں ہوئی ہے۔البتہ وہ نیوزکانفرنس کے دوران اسرائیلی فوجی کی بازیابی کے لیے ہلکان ہوئے جارہے تھے۔انھوں نے اسرائیلی فوج کو غزہ میں جارحیت سے باز رکھنے کے لیے بھی کوئی بات نہیں کی۔البتہ وہ حماس پر ہی زوردیتے رہے کہ وہ جنگ بندی کے لیے اسرائیل اور عالمی برادری کوسنجیدہ ہونے کا ثبوت دے۔صدر اوبامہ کا کہنا تھا کہ نئی جنگ بندی پر اتفاق ایک چیلنج ہے مگر پھر بھی امریکہ نئی جنگ بندی کے لیے کوششیں جاری رکھے گا تاکہ شہریوں کی زندگیوں کو بچایا جاسکے لیکن ان کے نزدیک غزہ کے مکین اسرائیلی فوج کی براہ راست بمباری کا نشانہ نہیں بن رہے ہیں بلکہ کراس فائر کا نشانہ بن رہے ہیں اور انھیں بچانے کے لیے کچھ کرنا ہوگا۔خیال رہے کہ آٹھ جولائی سے جاری اس خونی جنگ میں اب تک تقریباً 1600 شہری ہلاک ہو چکے ہیں ، جن میں زیادہ تعداد عام شہریوں بالخصوص بچوں اور عورتوں کی ہے، جبکہ اسرائیل کے اب تک 63 فوجی اور تین شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔زخمی ہونے والے اسرائیلیوں کی تعداد تقریباًً400 ہے۔ اسرائیل کی تمام تر فوجی ہلاکتیں 17 جولائی سے غزہ میں شروع کیے جانے والے زمینی آپریشن کے بعد سے اب تک ہوئی ہیں۔اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے حماس اور دیگر فلسطینی حریت پسند گروپوں کو امریکہ اور اقوام متحدہ کی طرف سے کرائی جانے والی تین روزہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ انہوں نے اس خلاف ورزی کی کوئی تفصیل نہیں بتائی۔ ان کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق صورتحال پر غور کے لیے کابینہ کی ایک میٹنگ بھی طلب کی گئی ہے۔ اسرائیل نے جنگ بندی ختم کرنے کے اپنے فیصلے سے اقوام متحدہ کو بھی آگاہ کردیا ہے۔اسرائیلی فوج کے مطابق جنگ بندی کا وقت شروع ہونے کے ڈیڑھ گھنٹہ بعد ان اسرائیلی فوجیوں پر ایک خودکش حملہ کیاگیا جو غزہ سے اسرائیلی علاقے کی طرف جانے والی سرنگیں تلاش کر رہے تھے۔ اس موقع پر دو طرفہ فائرنگ ہوئی۔ اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان لیفٹیننٹ کرنل پیٹر لیرنر کے بقول اس حملے میں دو اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے جبکہ ابتدائی معلومات سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایک اسرائیلی فوجی کو یرغمال بھی بنایا گیا ہے۔یرغمال بنائے جانے والے اسرائیلی فوجی کا نام تیئیس سالہ سیکنڈ لفٹننٹ ہادر گولڈین بتایا گیا ہے وہ جیواتی بریگیڈ سے وابستہ تھا۔ اسرائیل فوج کے ایک ترجمان نے کہا کہ جنگ بندی ختم ہوچکی ہے اور اسرائیلی فوج بری آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے اور وہ اپنے فوجی کی حراست کے ردِ عمل میں سخت ترین کارروائی کرے گی۔ لاپتہ فوجی کی تلاش میں اسرائیلی فوجی جنوبی غزہ میں داخل ہو چکے ہیں۔دریں اثنا امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ جان کیری کو اسرائیلی فوجی کے اغوا اور جنگ بندی کے خاتمے کی اطلاع اس وقت دی گئی جب وہ ہندستان کا دورہ مکمل کرکے وطن واپس جارہے تھے۔محکمہ خارجہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ جان کیری نے جہاز ہی سے قطر کے وزیرِ خارجہ خالد بن محمد العطیۃ اور ترکی کے وزیرِ خارجہ احمد اوغلو کو ٹیلی فون کیے اور درخواست کی کہ وہ اسرائیلی فوجی کی رہائی کے لیے حماس پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔امریکی اہلکار کے مطابق مسٹر کیری نے اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کو بھی ٹیلی فون کرکے صورتِ حال پر تبادلہ خیال کیا ہے جب کہ وہ فلسطینی صدر محمود عباس کو بھی فون کریں گے۔ایک اور اعلیٰ امریکی عہدیدار نے کہا ہے کہ جنگ بندی کی ناکامی کے باوجود امریکہ مصر کی حکومت کے ساتھ مل کر مستقبل کے لائحہ عمل پر کام کر رہا ہے۔خیال رہے کہ 72 گھنٹوں کی عارضی جنگ بندی کے دوران حماس اور اسرائیل کے وفود کو مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں مستقل جنگ بندی کی شرائط پر بات چیت کرنا تھی۔لیکن یہ مذاکرات معطل ہو گئے ہیں۔ اس کی وجہ اسرائیل کی طرف سے مبینہ طور پر پیچھے ہٹ جانا ہے۔ دوسری جانب حماس نے کسی اسرائیلی فوجی کو حراست میں رکھنے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے آج کہا ہے کہ ممکن ہے کہ وہ فوجی اسرائیلی حملے کی زد میں آگیا ہو۔حماس کے مسلح القسام بریگیڈ نے اسرائیل کے لاپتہ فوجی سے متعلق کوئی معلومات رکھنے سے انکار کردیا ہے اور کہا کہ اسے نہیں پتہ وہ لا پتہ فوجی اس وقت کہاں اور کس حال میں ہے۔ القسام بریگیڈ کا کہنا تھا کہ غزہ کے جنوبی حصے میں صیہونی فوج کے فضائی حملے کے بعد وہاں لڑنے والے حماس کے تمام افراد سے ہمارا رابطہ منقطع ہوچکا ہے لہذا یہ بھی ممکن ہے کہ اسرائیلی فضائیہ کے حملے میں ان کا لاپتہ فوجی مارا گیا ہو۔اسرائیل کے مطابق جنوبی غزہ میں حماس کی جانب سے بنائی جانے والی سرنگوں کو تباہ کرتے وقت ان کے 2 فوجی ہلاک جب کہ ایک لاپتہ ہوگیا تھا جس کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں ملا جب کہ اسرائیل نے الزام عائد کیا ہے کہ لاپتہ فوجی حماس کی حراست میں ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ رات امریکی صدر بارک اوبامہ نے بھی اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ اگر حماس جنگ بندی اور خطے میں امن کے لئے سنجیدہ ہے تو اسے غیر مشروط طور پر اسرائیلی فوجی کو رہا کرنا ہوگا۔ ساتھ ہی ساتھ مسٹر اوبامہ نے اسرائیل کا دفاع اور حماس پر الزمات عائد کرتے ہوئے کہا کہ ہم اسرائیل سے حماس کے خلاف آئرن ڈوم‘‘ پروگرام میں تعاون کریں گے۔
...

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔